Saturday, May 19, 2018

ارض فلسطین




ارض فلسطین

کیا بتاؤں اے سوئے مسلماں تجھے
کیسے کیسے یہاں میں نے صدمے سہے

میری گلیوں میں غنچوں کو روندا گیا
کتنی پاکیزہ کلیوں کو مسلا گیا

بوڑھی ماؤں کے بے جرم بیٹے مرے
با حیا بیٹیوں کے دو پٹے کھینچے

بھائی کے سامنے بہن روتی رہی
پر حمیت مسلماں کو سوئی رہی

میں تڑپتی پلکتی سسکتی رہی
کیسے ابو جی کی راہ تکتی رہی

دستِ ظالم میں میں روز بٹتی رہی
میری گردن آئے روز کٹتی رہی

کبھی دشمن مری جاں کے فاسق ہوئے
کبھی لالچ میں اپنے منا فق ہوئے

پوچھتی ہوں مسلماں بتا کس لئے
بے خطا ہوں تو پھر یہ سزا کس لئے

سینہ پھٹتا ہے اس پل مرا جوش میں
جب کوئی لاشہ آئے میری آغوش میں

مجھ پر یلغار اغیار ہونے لگی
رو رو بینائی بھی میری کھونے لگی

کیا ہوا تیرے جذبہ ایمان کو
کیوں محمد کے بھولے ہوفرمان کو

لے مَرے کفر کے کیوں نطارے تمہیں
اٹھو بیت المقدس پکارے تمہیں

چھوڑ دو اہل مغرب کی تقلید کو
دل سے جانے نہ دو روحِ توحید کو

دشمنوں سے کہاں کی بھلا دوستی
ہو جری پھر بھی افسوس کم ہمتی؟

ہاں سسکتے لبوں کی دعائیں بنو
بنت حوا کے سر کی ردائیں بنو

عمل کا وقت ہے گفتگو چھوڑ دو
ضرب حق سے بت ِکفر کو توڑ دو

خوں سے آکاش مدت سےرنگین ہوں
ہاں میں لاچار ارضِ فلسطین ہوں

No comments:

Post a Comment

اوسلو -نفرت كے پرچارَكو، ہوش میں آؤ!

اوسلو -نفرت كے پرچارَكو، ہوش  میں آؤ! از: ڈاكٹر ایم اجمل فاروقی ۱۵ گاندھی روڈ، دہرہ دون اوسلو میں عیسائی دہشت گردانہ حملہ ایك با...