ارض فلسطین
کیا بتاؤں اے سوئے مسلماں تجھے
کیسے کیسے یہاں میں نے صدمے سہے
میری گلیوں میں غنچوں کو روندا گیا
کتنی پاکیزہ کلیوں کو مسلا گیا
بوڑھی ماؤں کے بے جرم بیٹے مرے
با حیا بیٹیوں کے دو پٹے کھینچے
بھائی کے سامنے بہن روتی رہی
پر حمیت مسلماں کو سوئی رہی
میں تڑپتی پلکتی سسکتی رہی
کیسے ابو جی کی راہ تکتی رہی
دستِ ظالم میں میں روز بٹتی رہی
میری گردن آئے روز کٹتی رہی
کبھی دشمن مری جاں کے فاسق ہوئے
کبھی لالچ میں اپنے منا فق ہوئے
پوچھتی ہوں مسلماں بتا کس لئے
بے خطا ہوں تو پھر یہ سزا کس لئے
سینہ پھٹتا ہے اس پل مرا جوش میں
جب کوئی لاشہ آئے میری آغوش میں
مجھ پر یلغار اغیار ہونے لگی
رو رو بینائی بھی میری کھونے لگی
کیا ہوا تیرے جذبہ ایمان کو
کیوں محمد کے بھولے ہوفرمان کو
لے مَرے کفر کے کیوں نطارے تمہیں
اٹھو بیت المقدس پکارے تمہیں
چھوڑ دو اہل مغرب کی تقلید کو
دل سے جانے نہ دو روحِ توحید کو
دشمنوں سے کہاں کی بھلا دوستی
ہو جری پھر بھی افسوس کم ہمتی؟
ہاں سسکتے لبوں کی دعائیں بنو
بنت حوا کے سر کی ردائیں بنو
عمل کا وقت ہے گفتگو چھوڑ دو
ضرب حق سے بت ِکفر کو توڑ دو
خوں سے آکاش مدت سےرنگین ہوں
ہاں میں لاچار ارضِ فلسطین ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
اوسلو -نفرت كے پرچارَكو، ہوش میں آؤ!
اوسلو -نفرت كے پرچارَكو، ہوش میں آؤ! از: ڈاكٹر ایم اجمل فاروقی ۱۵ گاندھی روڈ، دہرہ دون اوسلو میں عیسائی دہشت گردانہ حملہ ایك با...
-
مسجد اقصیٰ-تعارف اور مختصر تاریخ مسجد اقصیٰ کا محل وقوع مسجد اقصیٰ شام کے علاقے (یعنی موجودہ فلسطین) میں واقع ہے اور اس کو ...
-
سفارت خانہ کی منتقلی اور فلسطینیوں کا قتل عام خورشید عالم داؤد قاسمی ٭ Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in جی ہاں،...
-
ارض فلسطین کیا بتاؤں اے سوئے مسلماں تجھے کیسے کیسے یہاں میں نے صدمے سہے میری گلیوں میں غنچوں کو روندا گیا کتنی پاکیزہ کلیوں کو...
No comments:
Post a Comment